افغان طالبان کی نئی حکومت اور کابینہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

Abdul Sayed
10 min readSep 8, 2021

--

BBC News اردو

  • عبدالسید
  • تجزیہ کار و محقق، سویڈن

،تصویر کا ذریعہ Getty Images

افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے 23 دن بعد افغان طالبان کے ترجمان نے وزیراعظم اور ان کے دو معاونین سمیت طالبان کی 34 رکنی عبوری کابینہ اور حکومت کا اعلان کیا جس میں 20 وزرا اور سات نائب وزرا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ فوج اور افغان مرکزی بینک کے سربراہ سمیت حکومت کے ڈائریکٹر برائے انتظامی امور کا بھی تقرر کیا گیا ہے۔ ان 34 عہدوں میں تین افراد کے علاوہ تمام پشتون النسل مرد افغان ہیں اور کابینہ میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی افغانستان شاخ سے وابسطہ افغان تجزیہ کار ابراہیم باحث کے مطابق طالبان کی اس نئی حکومت اور کابینہ میں 15 افراد کا تعلق جنوبی افغانستان سے، 10 کا جنوب مشرقی، پانچ کا مشرقی اور تین کا شمالی افغانستان سے ہے۔

یاد ر ہے کے جنوبی افغانستان کو ‘گریٹر قندھار’ ریجن بھی کہا جاتا ہے جہاں سے طالبان نے نوے کی دہائی میں جنم لیا جبکہ جنوب مشرقی افغانستان ‘گریٹر پکتیا’ ریجن کو کہا جاتا ہے، جہاں سے نائن الیون کے طالبان مولوی جلال الدین حقانی اور مولوی سیف اللہ منصور گروپوں نے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف جنگی محاذ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ملا حسن اخوند طالبان کے نئے وزیراعظم جبکہ ملا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی کو نائب وزرائے اعظم مقرر کیا گیا ہے۔

ملا حسن ابتدا سے طالبان تحریک کے اہم رکن اور اس کے بانی ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو طالبان حلقوں میں خاصا احترام حاصل ہے۔ ملا حسن نوے کی دہائی میں طالبان کے وزیراعظم ملا محمد ربانی کے ساتھ نائب وزیر اعظم رہے جبکہ سنہ 2001 کی ابتدا میں ربانی کی وفات پر وہ ان کے جانشین بنے۔

اس کے علاوہ ملا حسن طالبان کی اس دس رکنی سربراہی کونسل میں بھی شامل تھے جسے ملا عمر نے مئی 2002 میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت کا آغاز کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔ بعد کے برسوں میں ملا حسن طالبان کی اس سربراہی کونسل کے امیر بھی رہے، جو طالبان کا سب سے اعلی فیصلہ ساز ادارہ ہے اور طالبان کے امیرالمومنین کے تحت کام کرتا ہے اور ایسا شاذ ونادر ہی ہوا کہ طالبان سربراہ نے اس سربراہی کونسل کے کسی فیصلہ کو رد کیا ہو۔

افغانستان کے نئے منتخب نائب وزیراعظم مولوی عبدالسلام حنفی کا تعلق افغانستان کی ازبک قوم سے ہے اور وہ طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم ملا برادر کا بھی طالبان تحریک میں اہم کردار رہا ہے۔ نائن الیون میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ملا عمر نے انھیں اپنا نائب اور طالبان سربراہی کونسل کا سربرارہ مقرر کیا تھا جو اس عہدہ پر سال 2009 تک پاکستان میں سکیورٹی اداروں کی گرفتاری تک مقرر رہے۔

سنہ 2018 میں رہائی کے بعد ملا برادر کو طالبان کے موجودہ سربراہ شیخ ہبت اللہ اخونزادہ کا نائب اور طالبان کے سیاسی کمیشن اور قطر میں واقع اس تنظیم کے سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

اس طرح ملا برادر کا نائن الیون کے بعد طالبان کے عسکری محاذ کے آغاز اور رہائی کے بعد امریکہ کے ساتھ طالبان مذاکرات میں اہم کردار رہا ہے جو امریکہ کے ساتھ طالبان کے کامیاب امن معاہدہ پر منتج ہوا اور دو دہائی کی لڑائی کے بعد امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا اور طالبان کے افغانستان پر دوبارہ اقتدار کا سبب بنا۔

ملا حسن سے قبل سب سے پہلے ملا برادر کا نام طالبان وزیراعظم کے طور پر ابھر رہا تھا مگر شاید بعض اندرونی وجوہات کی بنا پر ملا حسن کو اس عہدہ کے لیے ملا برادر پر سبقت دی گئی۔

ملا عمر اور مولوی جلال الدین حقانی کے گھرانوں سے دو دو وزرا

اس نئی کابینہ کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ اس میں طالبان کے دو اہم خاندانوں سے دو دو وزرا منتخب کیے گئے ہیں۔ جس میں طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے مولوی یعقوب عمری وزیر دفاع اور ان کے سوتیلے بھائی ملا عبدالمنان عمری فوائد عامہ کے وزیر ہیں۔

مولوی یعقوب سنہ 2016 میں شیخ ہبت اللہ کے طالبان سربراہ منتخب ہونے کے بعد ان کے نائب اور طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ ہیں جسے طالبان کی شیڈو وزارت دفاع بھی کہا جا سکتا ہے۔

ملا عمر کے گھرانے کے علاوہ طالبان کے سینئیر لیڈر مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی عرف خلیفہ کو وزیر داخلہ اور ان کے بھائی خلیل حقانی کو وزیر برائے مہاجرین مقرر کیا گیا ہے۔ سراج الدین بھی ملا یعقوب کی طرح طالبان کے نائب سربراہ ہیں۔

سراج اور خلیل دونوں امریکہ کے مطلوب افراد کی فہرست میں ہیں اور ان پر امریکہ نے بالترتیب دس اور پانچ ملین امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہے۔ ان دونوں کے علاوہ بھی حقانی گروپ کے قریبی تین دیگر افراد کو اس کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

نائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی افواج کے خلاف طالبان مزاحمت کے آغاز میں حقانی گھرانے کا اہم کردار رہا ہے۔

ملا عمر کے سابق دیرینہ سیکرٹری ملا عبدالحئی مطئن طالبان تحریک پر لکھی گئی اپنی کتاب میں حقانی خاندان سے متعلق لکھتے ہیں کہ جلال الدین حقانی کے بیٹوں نے نائن الیون کے بعد تقریباً آدھے افغانستان میں طالبان کا مضبوط جنگی محاذ قائم کیا جس میں اس گھرانے کے بچوں، عورتوں سمیت کئی افراد امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے جس کی وجہ سے طالبان کے اندر ان کو کافی مقبولیت حاصل ہے۔

جلال الدین حقانی کے سب سے چھوٹے بیٹے انس حقانی طالبان کے سیاسی دفتر کے اہم رکن رہے مگر انھیں اس عبوری کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ انس نے نہایت کم عمری میں تقریباً پانچ سال امریکی اور افغان اداروں کی قید میں گزارے۔ قید اور رہائی کے بعد سیاسی کردار کی وجہ سے انس کو طالبان حلقوں میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔

طالبان وزیر خارجہ

اس کے علاوہ طالبان تحریک کے ایک اور اہم رکن مولوی امیر خان متقی کو طالبان حکومت کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔

متقی بھی ان دس اشخاص میں سے تھے جنھیں ملا عمر نے نائن الیون کے بعد طالبان کی اول سربراہی کونسل میں شامل کیا تھا۔ وہ نوے کی دہائی میں طالبان کے وزیر برائے اطلاعات و کلچر بھی رہے اور نائن الیون کے بعد طالبان کے اسی کمیشن کے برسوں تک سربراہ بھی۔

ان کو دعوت و ارشاد کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا اور ان کی جگہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو اطلاعات و کلچر کمیشن کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ متقی کی نئی ذمہ داری میں ایک اہم کام طالبان مخالفین کو دعوت اور بغیر جنگ کے طالبان کا حامی بنانا تھا۔

طالبان کا اکثریتی صوبوں اور اضلاع پر بغیر جنگ کے قبضہ اور ہزاروں سابق افغان حکومت کے سکیورٹی فورسز کا ان کو تسلیم کرنے کا اصل سبب متقی کی تجویز کردہ اسی پالیسی کو گردانا جاتا ہے۔

متقی کے ساتھ شیر محمد عباس ستنکزئی کو نائب وزیر خارجہ منتخب کیا گیا ہے۔ ستنکزئی کو طالبان کے خارجہ امور میں اہم کردار کی وجہ سے عالمی سطح پر جانا جاتا ہے اور طالبان کے اندرونی حلقوں میں بھی انھیں کافی مقبولیت حاصل ہے۔

ستنکزئی طالبان تحریک کی ابتدا سے ان کے خارجہ امور کا اہم حصہ رہے ہیں اور اس وقت سے بیرون ممالک کے اہم سیاسی دوروں کے بھی رکن رہے۔ اس کے علاوہ نائن الیون کے بعد طالبان سیاسی دفتر اور امریکہ اور افغان حکومت سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ بھی رہے۔

وہ ملا برادر سے قبل طالبان سیاسی کمیشن اور دوحہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ بھی رہے۔ متقی کے علاوہ ستنکزئی اور ملا برادر کو وزارت خارجہ کے اہم امیدواروں میں شمار کیا جاتا تھا مگر اس وزارت کا قرعہ فال متقی کے نام نکلا۔

گوانتناموبے کے طالبان قیدی وزرا

طالبان حکومت کی اس نئے کابینہ میں ان پانچ طالبان سینئیر کمانڈروں میں سے ان چار کو بھی شامل کیا گیا ہے جو سنہ 2014 میں امریکہ کے گوانتنامو جزیرے میں واقع قید خانے سے کئی سال کی قید کے بعد طالبان کے زیرحراست ایک امریکی فوجی کی رہائی کے بدلے میں رہا کرائے گئے تھے۔

ان پانچ کمانڈروں میں ملا فاضل اخوند، ملا عبدالحق واثیق، ملا نوراللہ نوری، ملا خیر خواہ اور مولوی محمد نبی عمری شامل تھے۔

ملا واثیق انٹیلجنس چیف، ملا خیر خواہ وزیر برائے اطلاعات و کلچر، ملا نور وزیر برائے سرحدات و قبائل اور ملا فاضل کو نائب وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے جبکہ مولوی عمری کو افغان صوبہ خوست کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

یا د رہے کہ نائن الیون سے قبل ملا واثیق طالبان حکومت کے انٹیلجنس چیف قاری احمد اللہ کے دست راست اور اس کے ساتھ نائب وزیر برائے استخبارات تھے۔ قاری احمد اللہ افغانستان پر امریکی حملے کے آغاز میں مارے گئے۔

ملا فاضل نائین الیون سے قبل بھی طالبان کے نائب وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ تھے مگر انھیں اب فقط ایک عہدہ دیا گیا ہے۔ ملا خیر خواہ بھی ماضی میں طالبان حکومت میں وزارت داخلہ سمیت کئی کلیدی عہدوں پر مقرر رہے۔

ملا نوری ماضی میں طالبان حکومت کے دیگر عہدوں کے ساتھ صوبہ بلخ کے گورنر ہونے کے ساتھ شمالی زون کے سربراہ رہے۔

تاجک النسل فوج سربراہ

طالبان حکومت میں سب سے دلچسپ تقرری فوج کے سربراہ کی ہے جس کے لیے صوبہ بدخشان سے تعلق رکھنے والے تاجک النسل طالبان اہم کمانڈر قاری فصیح الدین کو منتخب کیا گیا ہے۔ طالبان کے لیے گذشتہ برسوں میں ان کی عسکری فتوحات کو دیکھتے ہوئے اس عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

یاد رہے بدخشان ان دو صوبوں میں سے ایک تھا جو نوے کی دہائی میں احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا گڑھ رہا اور طالبان آخر تک اس کو مکمل اپنے زیر قبضہ نہ لا سکے۔ نائن الیون کے بعد کے آخری برسوں میں یہاں سے قاری فصیح الدین اور دیگر تاجک طالبان کی صفوں میں شامل ہو گئے جس کی وجہ سے طالبان کو مقامی آبادی میں نفوذ حاصل ہوا۔

یہی وجہ تھی کہ قاری فصیح الدین نے شمال میں طالبان کے لیے ازبک اور تاجک جنگجوؤں کی ایک ایسی کھیپ تیار کی جس کے سبب حیران کن طور پر افغانستان کا شمال طالبان کا گڑھ بن گیا۔

یہ قاری فصیح الدین ہی تھے جو شمال میں طالبان جنگجوؤں کے کمان دان اعلیٰ رہے اور ان کی سربراہی میں طالبان نے افغانستان میں شمالی صوبوں کو فتح کیا جبکہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شاید ماضی کی طرح اس بار بھی طالبان کو یہاں سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سال کے ابتدائی مہینوں میں قاری فصیح الدین کو ملا یعقوب کے تحت طالبان ملٹری کمیشن کا نائب سربراہ برائے شمال افغانستان مقرر کیا گیا تھا۔

قاری فصیح الدین کے علاوہ دو دیگر غیر پشتون افراد کو بھی حکومت کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں نائب وزیر اعظم مولوی عبدالسلام حنفی اور وزیر برائے اقتصاد قاری دین محمد حنیف شامل ہیں۔

34 رکنی کابینہ اور اہم تقررات میں محض تین غیر پشتون افراد کا ہونا طالبان کے ان دعووں اور افغان سیاسی حلقوں سے امریکی یقین دہانیوں کی نفی کرتا ہے جس میں ہر بار یہ کہا گیا کہ طالبان کی حکومت میں تمام افغان اقوام کو نمائندگی حاصل ہو گی۔

طالبان حکومت اور کابینہ کے اعلان کے ساتھ اس پر افغان سوشل میڈیا میں جو سب سے اہم سوال سامنے نظر آتا ہے وہ یہی ہے کہ کیا کثیر القومی اور افغان قوم کی نمائندہ حکومت سے طالبان کی مراد یہ تھی؟

اس کے جواب میں طالبان کی جانب سے ایک جواب نظر آتا ہے کہ یہ تو محض ایک عبوری حکومت ہے جو افغانستان میں طالبان کی دائمی حکومت کے لیے کام کرے گی مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ حکومت کب تک رہے گی۔

ماضی میں بھی اپنی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے دفاع میں طالبان کا فقط یہی جواب ملتا رہا کہ چونکہ وہ ملک کے شمال میں سیاسی مخالفین کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں لہذا جب تک وہ سارے ملک کا اقتدار حاصل نہیں کرتے تو ان کی حکومت میں موجود خامیوں مثلا عورتوں کی تعلیم وغیرہ کے اہم مسائل کا حل ڈھونڈنا مشکل ہے۔

مگر اس بار طالبان کو افغانستان کے تمام صوبوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہے مگر پھر بھی اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان کی یہ حکومت کن ساز گار حالات کی تلاش میں ہے اور یہ کتنے عرصے میں مکمل حکومت میں تبدیل ہو گی۔

کون سے اہم طالبان رہنما غیر متوقع طور پر اس کابینہ کا حصہ نہ بن سکے؟

ممتاز افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا کہ طالبان کابینہ میں اہم عسکری کمانڈروں کو شامل نہیں کیا گیا جن کے پاکستان کی بجائے ایران کے ساتھ اچھے مراسم ہیں۔

یوسفزئی کے بقول ان میں عبدالقیوم ذاکر، ملا صدر ابراہیم اور داؤد مزمل شامل ہیں۔

ذاکر اور ابراہیم کا گذشتہ کئی برسوں میں افغانستان کے اندر طالبان کے عسکری میدان میں کافی اہم مقام حاصل ہے۔ یہ دونوں طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ بھی رہے ہیں اور حال میں بھی یہ ملا یعقوب کے تحت اس کمیشن کے نائب سربراہ ہیں۔

کابل ہر طالبان کے قبضے کے چند روز بعد بعض بین الاقومی میڈیا میں طالبان ذرائع کے حوالہ سے یہ خبر گرم رہی کہ گویا صدر اور ابراہیم کو بالترتیب طالبان کے داخلہ اور دفاع وزارتوں کے لیے سربرست وزرا مقرر کیا گیا ہے مگر طالبان نے اس کا رسمی اعلان نہیں کیا تھا۔ شاید ان کی یہ تقرری اس وقت اس عبوری کابینہ کے اعلان تک رہی ہو گی۔

ان کے علاوہ طالبان کے ایک اہم سینئیر رہنما مولوی عبدالکبیر کا بھی اس کابینہ میں نہ ہونا حیران کن ہے جو کہ ملا حسن کی طرح نوے کی دہائی میں طالبان کے نائب وزیر اعظم، صوبہ ننگرہار کے گورنر سمیت افغانستان کے مشرقی زون کے لیے طالبان سربراہ اور ملا عمر کے نہایت معتمد ساتھی رہے ہیں۔

مولوی عبدالکبیر بھی متقی اور ملا حسن کے ساتھ طالبان کے اس دس رکنی سربراہی کونسل کا حصہ تھے جسے ملا عمر نے طالبان کی غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت کے لے تشکیل دیا تھا۔

پچھلی دو دہائیوں میں مولوی عبدالکبیر طالبان قیادت میں ایک انتہائی فعال اور اہم نام رہے ہیں۔

Originally published at https://www.bbc.com on September 8, 2021.

--

--

Abdul Sayed

I am a research analyst focusing on jihadism, Afghanistan, and Pakistan.