پاکستان نام نہاد دولت اسلامیہ کے اثر سے کیسے بچا رہا —

Abdul Sayed
6 min readJan 15, 2021

--

BBC News اردو

عالمی شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کی پاکستانی شاخ نے حال ہی میں صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے ہلاک کیے جانے کے حوالے سے ایک آڈیو پیغام نشر کیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ پاکستان کے ‘ندائے حق’ نامی نشریاتی ادارے کی جانب سے اُردو زبان میں نشرکردہ اس 15 منٹ کے آڈیو بیان میں تنظیم کے ایک پاکستانی رہنما نے کچھ ایسی پراپیگنڈہ زبان استعمال کی ہے جس کا بظاہر ہدف پاکستان کے دیوبندی سُنی فرقہ پرست تنظیموں کے کارکن ہیں۔

تنظیم کی مرکزی قیادت نے سنہ 2019 میں پاکستان اور افغانستان سمیت خطے کی علاقائی شاخ خراسان سے پاکستان کو الگ کرتے ہوئے یہاں کے لیے ‘دولت اسلامیہ ولایہ پاکستان’ کے نام سے اپنی الگ شاخ کا اعلان کیا، جو کہ ‘داعش پاکستان’ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔

سنہ 2015 میں ‘داعش خراسان’ کے قیام پر ماہرین نے اس خطرے کی نشاندہی کی تھی کہ شاید خطے میں نام نہاد دولت اسلامیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ شیعہ سنی فرقہ وارانہ تشدد کے ذریعے پاکستان کے سکیورٹی حالات کو مزید بدتر بنا دے گا۔

یہ بھی پڑھیے

اگرچہ نام نہاد دولت اسلامیہ پاکستان کا یہ حالیہ حملہ پاکستان میں اہل تشیع مسلمانوں کے خلاف ایک بڑا حملہ ہے مگر گذشتہ 20 مہینوں کی بھرپور کوششوں کے باوجود بھی یہ شدت پسند تنظیم پاکستان میں نہ اپنے قدم جما سکی ہے اور نہ ہی یہاں شیعہ سنی فرقہ واریت کی جنگ کو اپنے پھیلاؤ کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

نام نہاد دولت اسلامیہکا پاکستانی سنی فرقہ پرست تنظیموں کے افراد کو پیغام

داعش خراسان نے اس آڈیو پیغام میں مچھ میں کیے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے یہ حملہ پاکستان کے اہل تشیع افراد کی جانب سے شام اور عراق میں فعال ‘زینبیون’ اور ‘فاطمیون’ نامی مسلح شیعہ تنظیموں میں شمولیت کے ردعمل میں کیا ہے۔

یاد رہے کہ مختلف ذرائع سے یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں اہل تشیع نوجوانوں نے ایرانی حکومت کے وساطت سے شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ اور دیگر سنی شدت پسند گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے فاطمیون اور زینبیون تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اس بات کا ایک حد تک اعتراف موجودہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے حالیہ دورہ افغانستان کے دوران افغان صحافی ہارون نجفی زادہ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بھی کیا ہے۔

پاکستانی سنی فرقہ پرست تنظیمیوں میں سرفہرست ‘سپاہ صحابہ’ ہے جو اسی کی دہائی سے سرگرم ہے۔ اس تنظیم کا ابتدائی منشور یہ تھا کہ پاکستان کو ایران کی طرز پر ایک سنی سٹیٹ بنایا جائے۔

شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان صدیوں سے شدید تنازعات پائے جاتے ہیں۔ سپاہ صحابہ اور اس سے الگ ہونے والی مسلح تنظیم ‘لشکر جھنگوی’ شیعہ افراد کے خلاف پرتشدد حملے کرتی آئی ہے۔ اس طرح شیعہ مسلح تنظیمیں بھی سنی فرقہ کے سرکردہ مذہبی اشخاص اور سپاہ صحابہ کے کارکنوں کے خلاف حملے کرتی آئی ہیں جس سے وقتاً فوقتاً ملک میں شیعہ سنی فسادات کی آگ بھڑکتی رہی ہے۔

نام نہاد دولت اسلامیہکیوں پاکستان میں اپنے قدم نہ جما سکی

شام اور عراق میں نام نہاد دولت اسلامیہ کی اہل تشیع مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں کی ہولناک تاریخ کے باوجود وہ پاکستان میں اہل تشیع مخالف سنی فرقہ پرست مسلح تنظیموں کے افراد کو اپنی جانب کیوں کھنچ نہ سکی، اس سوال کا جائزہ پاکستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ کی اب تک ناکامی کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔

پاکستان میں اہل تشیع مسلک سے برسرپیکار سپاہ صحابہ اور اس کے عسکری ونگ لشکر جھنگوی کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے جبکہ پاکستانی دیوبندی مکتبہ فکر عمومی طور پر افغان طالبان کا حمایتی سمجھا جاتا ہے کیونکہ طالبان نہ صرف ان کے ہم مسلک ہیں بلکہ طالبان قیادت میں شامل بیشتر شدت پسند پاکستان کے دیوبندی مدراس سے فارغ التحصیل ہیں۔

افغان طالبان کی تاریخ بتاتی ہیں کہ پاکستان کی سرکردہ دیوبندی مذہبی قیادت نے روزِ اول سے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات استوار رکھے ہیں۔ افغان طالبان کی قیادت بھی اپنے اہم امور میں ان سے رہنمائی لیتی رہی ہے۔ اس طرح افغان طالبان کی طرح پاکستان کی اکثریت جہادی تنظیوں کا تعلق بھی دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے جو کہ افغانستان میں طالبان کے قیام سے ہی ان کے شانہ بشانہ لڑتے آ رہے ہیں۔

دوسری طرف داعش خراسان نے اس خطہ میں اپنے ظہور کے ساتھ افغان طالبان کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ان کے خلاف افغانستان میں ایک شدید جنگ بھی شروع کی جس میں اطراف کو شدید جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے پاکستان میں بھی افغان طالبان کی قیادت، ان کی مساجد اور مدارس کو حملوں کا نشانہ بنایا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے اور پاکستان میں اسلامی شدت پسند عسکری تنظیموں پر نظر رکھنے والے صحافی نعمت خان کا کہنا ہے افغان طالبان کے ساتھ قتل و غارت گری کی وجہ سے نام نہاد دولت اسلامیہ کو پاکستان کے دیوبندی مکتبہ فکر میں پذیرائی نہ مل سکی اور اس طرح وہ پاکستان کی جہادی کمیونٹی میں اپنے پنجے گاڑھ نہ سکی۔

شاید داعش خراسان کی اس چھاپ سے بچنے کے لیے مرکزی قیادت نے پاکستان میں نئے سرے سے نام نہاد دولت اسلامیہ کے قدم جمانے کے لیے پاکستان کے لیے الگ شاخ کا اعلان کیا ہو جس کی سربراہی کے لیے پاکستان مخالف شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک سابقہ کمانڈر حاجی داؤد محسود کا انتخاب کیا گیا۔

محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے اور میں ماضی میں کراچی میں مقیم رہے ہیں۔ پاکستانی صحافی ضیاالرحمان کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان کی اکثر قیادت کی طرح محسود کا تعلق بھی دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے، شاید اس کے انتخاب کا مقصد دیوبندی مسلح فرقہ پرست تنظیموں کے افراد کو نام نہاد دولت اسلامیہ پاکستان کا حصہ بنانا ہو۔

امریکہ کی ‘ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی’ کی پروفیسر اور پاکستان اور افغانستان خطہ میں نام نہاد دولت اسلامیہ پر وسیع تحقیق کرنے والی ڈاکٹر عامرہ جدون کا بھی نام نہاد دولت اسلامیہ پاکستان کے قیام کے حوالہ سے کہنا ہے شاید داعش خراسان کے لیے ممکن نہ تھا کہ افغانستان میں افغان طالبان کے ساتھ بڑے پیمانے پر شدید جنگ کی وجہ سے پاکستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ کی حامیوں کے ترجیحات پر توجہ دیں سکیں، تو اسی لیے نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنے پاکستانی ارکان کے لیے پاکستان میں الگ شاخ کا اعلان کیا ہو تاکہ مقامی قیادت بہتر طریقے پاکستان میں موجود امکانات نام نہاد دولت اسلامیہ کے پھیلاؤ کے لیے استعمال میں لا سکے۔

مگر نام نہاد دولت اسلامیہ پاکستان کے قیام سے اب تک کی صورتحال بتاتی ہے کہ مئی 2019 میں پاکستان کے لیے الگ شاخ کے قیام کے باوجود تنظیم میں کوئی خاطر خواہ فعالیت نہیں دکھا سکی ہے اور خصوصا وہ اہل تشیع مخالف سنی شدت پسندوں کو اپنے دہشت گردانہ حملوں میں استعمال کرنے کے لیے کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

نام نہاد دولت اسلامیہ کے رسمی ذرائع نے گذشتہ بیس مہینوں میں پاکستان میں تقریباً 38 حملوں کا دعویٰ کیا ہے جن میں صوبہ بلوچستان کے ضلع مچھ کے اس حالیہ حملے سمیت فقط چار حملے شیعہ سنی فرقہ واریت نوعیت کے ہیں۔

اس سے قبل نام نہاد دولت اسلامیہ نے سنہ 2019 میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم حملہ کا ذریعے ہزارہ برادری کے اہل تشیع مسلمانوں کے خلاف حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ باقی دو حملے کراچی اور پشاور میں کیے گئے ہیں، جن میں فقط ایک، ایک شخص کی ہلاکت کا دعوی کیا گیا ہے۔

نام نہاد دولت اسلامیہ پاکستان کے مطابق انھوں نے زیادہ تر حملے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور، قبائلی ضلع باجوڑ اور صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے ضلع مستونگ میں کیے ہیں جن میں شدت پسند تنظیم کے اعداد شمار کے مطابق بیشتر طور پر سکیورٹی اہلکار اور افغان طالبان نشانہ رہے ہیں۔

Originally published at https://www.bbc.com on January 15, 2021.

--

--

Abdul Sayed

I am a research analyst focusing on jihadism, Afghanistan, and Pakistan.